حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے اس پر عمل کرنا ہی نجات ہے
تمہید:
ہر دور کا انسان کسی راہبر کا محتاج رہا ہے جو اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ آج کے فکری خلفشار، روحانی خلاء اور اخلاقی زوال کے دور میں اگر کوئی کامل نمونہ موجود ہے تو وہ صرف اور صرف حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآنِ مجید کی مجسم تصویر تھی، جو نہ صرف مسلمان بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت میں ہمیں ہر شعبۂ زندگی سے متعلق ہدایت ملتی ہے۔ خواہ وہ گھریلو معاملات ہوں، عدل و انصاف کا نظام ہو یا بین الاقوامی تعلقات—ہر پہلو میں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک عملی مثال ہے۔ یہی وہ جامعیت ہے جو ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔
علمائے کرام اور مفکرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امتِ مسلمہ کی بقا و فلاح کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں نافذ کرے۔ جیسا کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا: “اگر تم نجات چاہتے ہو تو نبی ﷺ کی راہ پر چلو، کیونکہ یہی راہ حق ہے۔”
1- محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا
حضرت محمد ﷺ سے محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی اطاعت کا نام ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: “قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله” (آل عمران: 31)۔ اس آیت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت کا معیار نبی کریم ﷺ کی پیروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیاں سیرتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھلی ہوں۔
یہ محبت اس وقت مکمل سمجھی جائے گی جب ہم اپنے کردار، گفتار اور فیصلوں میں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو ترجیح دیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ اپنی کتاب Introduction to Islam میں لکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو سنت کے تابع کر دیں۔
2- سیرت طیبہ: زندگی کے ہر پہلو کا جامع نمونہ
نبی کریم ﷺ کی زندگی نہ صرف عبادات بلکہ معاملات، اخلاقیات، سیاسی و سماجی اصولوں پر بھی مشتمل ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ دین محض چند مذہبی اعمال کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔
سید سلیمان ندوی نے سیرت النبی میں واضح کیا کہ اگر انسان اپنی پوری زندگی کے لیے کوئی رہنما تلاش کرے تو اسے نبی کریم ﷺ کی سیرت میں مکمل ہدایت ملے گی۔ خواہ وہ ماں باپ کی اطاعت ہو یا دشمن کے ساتھ رواداری، ہر موقع پر آپ ﷺ کا کردار بہترین رہا۔
3- اخلاقِ نبوی ﷺ اور انسانیت
نبی کریم ﷺ کا اخلاق قرآن کی عملی تصویر تھا۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: “كان خلقه القرآن” (مسند احمد)۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی پر ظلم نہ کیا، نہ کسی سے بدلہ لیا سوائے اللہ کے دین کے لیے۔
آج کے معاشرے میں جہاں نفرت، عدم برداشت اور خود غرضی عام ہے، وہاں نبی کریم ﷺ کے اخلاق کو اپنانا ہی انسانیت کی نجات ہے۔ برنارڈ شا جیسا مغربی مفکر بھی کہتا ہے: “If a man like Muhammad were to assume the dictatorship of the modern world, he would solve its problems.” یہ بات نبی کریم ﷺ کی اخلاقی عظمت کی دلیل ہے۔
4- عدل و انصاف کا نمونہ
آپ ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں عدل کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ چاہے وہ اپنے عزیزوں کے خلاف فیصلہ ہو یا دشمنوں کے حق میں—آپ ﷺ کا میزان ہمیشہ برابری پر قائم رہا۔ قرآن میں ہے: “اعدلوا هو أقرب للتقوى” (المائدہ: 8)۔
سنن ابی داؤد میں ہے کہ ایک بار ایک قریشی خاتون نے چوری کی تو صحابہ نے سفارش کی، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔” یہ آپ ﷺ کے عدل کی روشن مثال ہے، جو آج کے حکمرانوں کے لیے سبق ہے۔
5- رحمت للعالمین ﷺ
نبی کریم ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ تمام عالمین کے لیے رحمت بن کر آئے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: “وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين” (الأنبیاء: 107)۔ آپ ﷺ نے نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانات، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ بھی شفقت و رحمت کا سلوک کیا۔
سیرت ابن ہشام میں درج ہے کہ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم کا برتاؤ کیا، حتیٰ کہ طائف کے لوگوں کو بد دعا نہ دی۔ ایسی فراخ دلی اور نرم مزاجی آج کے دور میں ناپید ہے اور اسی کو اپنانا ہمارے لیے لازم ہے۔
6- عائلی زندگی میں آپ ﷺ کا نمونہ
نبی کریم ﷺ کی گھریلو زندگی حسنِ معاشرت کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ﷺ بیویوں کے ساتھ نہایت نرمی، محبت اور مشاورت سے پیش آتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “آپ ﷺ گھر کے کام کاج میں مدد کیا کرتے تھے۔”
یہ بات آج کے معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں ازدواجی مسائل میں بگاڑ عام ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپنائیں تو گھریلو جھگڑوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اسد نے The Road to Mecca میں لکھا کہ نبی ﷺ کی گھریلو زندگی دراصل اسلام کے عائلی اصولوں کی عملی تفسیر ہے۔
7- معاشی اصول اور دیانت داری
آپ ﷺ نے معاشی زندگی میں دیانت داری اور عدل کو بنیاد بنایا۔ آپ ﷺ کو “صادق” و “امین” کا لقب تجارتی زندگی کے سبب ملا۔ اسلام میں رزقِ حلال کی جتنی تاکید ہے، وہ آپ ﷺ کی سیرت سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔
سیرتِ نبوی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ، دھوکہ، اور فریب نہ صرف گناہ بلکہ معاشرتی تباہی کا سبب ہیں۔ مولانا مودودی اپنی کتاب خطبات میں لکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کی دیانت داری ہی اسلام کے اولین پھیلاؤ کی بنیاد بنی۔
8- تعلیم اور علم کی اہمیت
نبی کریم ﷺ کی اولین وحی “اقْرَأْ” سے شروع ہوئی جو تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ علم کو فضیلت دی اور فرمایا: “علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔”
آج کا مسلمان اگر زوال کا شکار ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ علم سے دوری ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی میں لکھا کہ اگر مسلمانوں نے علم کو اولیت دی ہوتی، تو وہ آج بھی دنیا کی قیادت کرتے۔
9- رواداری اور بین المذاہب تعلقات
نبی ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ مدینہ کے معاہدے میں مختلف مذاہب کے افراد کے لیے برابر کے حقوق دیے گئے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ مکالمے اور حکمت کو ترجیح دی۔
آج کے دور میں مذہبی ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے۔ اگر ہم نبی ﷺ کی بین المذاہب حکمت عملی کو اپنائیں تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ کارنل فیض الرحمان اپنی کتاب Interfaith Relations in Islam میں لکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کا انداز سب سے زیادہ مؤثر اور بامعنی تھا۔
10- نبی ﷺ کا صبر و استقامت
مکی زندگی میں آپ ﷺ پر بے شمار مصیبتیں آئیں، مگر آپ ﷺ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ طائف کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ صبر دراصل ایمان کا حصہ ہے، اور نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ مشکلات میں حوصلہ کیسے رکھا جائے۔
امام ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں نبی ﷺ کے صبر کو “صبرِ کامل” کہا ہے۔ آج کے دور میں جب انسان معمولی مشکلات میں مایوس ہو جاتا ہے، نبی ﷺ کی زندگی ہمیں صبر کی اصل روح سکھاتی ہے۔
11- عبادت کا انداز
نبی کریم ﷺ کی عبادات نہایت خشوع و خضوع سے بھرپور تھیں۔ راتوں کو قیام، آنکھوں میں آنسو، اور اللہ سے تعلق—یہ سب ہمیں عبادت میں اخلاص کا درس دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: “نماز آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔”
یہ عبادت کا وہ انداز ہے جو آج کی مشینی زندگی میں روحانی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا: “نبی ﷺ کی عبادت کا مقصد صرف ثواب نہیں بلکہ اللہ سے قرب حاصل کرنا تھا۔”
12- نبی ﷺ کی قیادت
آپ ﷺ نہایت مدبر، باصلاحیت اور دوراندیش قائد تھے۔ غزوہ بدر، حدیبیہ کا صلح نامہ، اور خطبہ حجۃ الوداع—یہ سب قیادت کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے The Prophet’s Diplomacy میں ثابت کیا کہ نبی ﷺ کی قیادت صرف روحانی ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور فوجی سطح پر بھی مثالی تھی۔ آج کے قائدین اگر آپ ﷺ کے اصول اپنائیں تو معاشرے میں امن و انصاف ممکن ہو سکتا ہے۔
13- نبی ﷺ کا حسنِ گفتار
آپ ﷺ کی زبان پاک سے کبھی سخت یا نازیبا کلام نہیں نکلا۔ قرآن گواہی دیتا ہے: “وإنك لعلى خلق عظيم” (القلم: 4)۔ نرم لہجہ، مناسب الفاظ اور حکمت بھرے جملے آپ ﷺ کی گفتگو کا خاصہ تھے۔
امام نووی نے ریاض الصالحین میں کہا کہ نبی ﷺ کی باتوں میں تاثیر اس لیے تھی کہ وہ ہمیشہ سچائی اور اخلاص پر مبنی ہوتیں۔ آج کے دور میں حسنِ گفتار کو اپنانا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔
14- نبی ﷺ کی معافی و درگزر
فتح مکہ کا واقعہ نبی ﷺ کی عفو و درگزر کی اعلیٰ مثال ہے۔ دشمنوں کو معاف کر دینا وہ عظمت ہے جو عام انسان میں مشکل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “جس نے معاف کیا، اللہ اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔”
سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ذاتی انتقام کبھی نہیں لیا۔ یہ رویہ آج کے دور میں تعلقات کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر طہ حسین نے The Prophet of Mercy میں لکھا کہ معافی نبی ﷺ کی قیادت کی اصل طاقت تھی۔
15- عزم و ہمت
نبی ﷺ کی زندگی جدوجہد سے بھری ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی ہار نہیں مانی، چاہے مکہ کی سختیاں ہوں یا جنگوں کی آزمائشیں۔ آپ ﷺ کی ہمت اہلِ ایمان کے لیے نمونہ ہے۔
شیخ سعدی نے فرمایا: “اگر تم میں عزم ہے تو تمہیں نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھنا چاہیے، کیونکہ ان کا عزم پہاڑوں کو ہلا دیتا تھا۔” آج کے نوجوانوں کے لیے یہ سبق نہایت اہم ہے۔
16- صبر و استقامت
نبی ﷺ کی زندگی صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال ہے۔ طائف کی گلیوں میں جب آپ ﷺ کو پتھروں سے زخمی کیا گیا، تو فرشتے نے آفرینش کی کہ وہ ان لوگوں کو ہلاک کر دے، مگر آپ ﷺ نے جواب دیا: “مجھے امید ہے کہ ان کی اولاد ایمان لائے گی۔” یہ وہ صبر ہے جو دنیا کے کسی فلسفے میں نہیں ملتا۔
صبر صرف تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ پر مکمل بھروسے اور اپنے مشن پر قائم رہنے کا جذبہ بھی ہے۔ امام غزالی اپنی کتاب “احیاء العلوم” میں لکھتے ہیں: “صبر دل کی وہ حالت ہے جس میں انسان آزمائش کے باوجود اللہ سے بدگمان نہیں ہوتا۔” یہی استقامت ہمیں زندگی کے نشیب و فراز میں کامیاب کرتی ہے۔
17- حسن اخلاق کی تعلیم
نبی اکرم ﷺ کی سب سے نمایاں صفت ان کا حسنِ اخلاق تھا۔ قرآن خود گواہی دیتا ہے: “اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق کے مالک ہیں” (سورۃ القلم: 4)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے” (مسند احمد)۔ آپ ﷺ کا ہر عمل، ہر قول، ہر تعلق سراپا محبت، خلوص اور نرمی کا عکاس تھا۔
آج کے پرتشدد اور خودغرض دور میں آپ ﷺ کے اخلاق ہی وہ روشنی ہیں جو ہمیں دوبارہ انسانیت کی طرف لوٹا سکتی ہے۔ مولانا مودودی اپنی کتاب “سیرتِ سرورِ عالم” میں فرماتے ہیں کہ “اگر ہم صرف نبی ﷺ کے اخلاق اپنا لیں، تو دنیا میں ہر دل امن کا گہوارہ بن جائے۔” اس لیے حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنانا ہی حقیقی اتباعِ رسول ﷺ ہے۔
18- تبلیغ دین کا جذبہ
نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی دین کے پیغام کو پہنچانے میں صرف کر دی۔ مکہ کی گلیوں، طائف کی وادیوں، اور مدینہ کی بستیوں میں آپ ﷺ نے دین کو نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عمل سے بھی پہنچایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “میری طرف سے ایک آیت ہی سہی، پہنچاؤ۔” (بخاری) یہ ہر مسلمان کے لیے تبلیغ دین کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
تبلیغ صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ ہمارا ہر عمل، رویہ اور طرزِ گفتگو بھی دین کی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا: “بہترین دعوت وہ ہے جو عمل سے دی جائے۔” آج جب دین کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، ہمیں نبی ﷺ کی سیرت کے ذریعے اصل دین کو پیش کرنا ہوگا۔
19- دنیا سے بے رغبتی
نبی اکرم ﷺ کی زندگی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی کی اعلیٰ مثال تھی۔ آپ ﷺ کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہیں جلتا تھا، اور آپ ﷺ کھجور اور پانی پر صبر کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “دنیا قیدی کے لیے جیل اور کافر کے لیے جنت ہے۔” (مسلم)۔ دنیا سے بے رغبتی کا مطلب دنیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے مقصدِ زندگی نہ بنانا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں: “زہد کا مطلب یہ ہے کہ دل دنیا سے نہ لگے، اگرچہ ہاتھ میں ہو۔” نبی ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آخرت کی فکر ہی اصل کامیابی ہے، اور دنیا محض ایک آزمائش ہے۔ یہ فہم ہی ہمیں لالچ، حسد اور حرص سے نجات دیتا ہے۔
20- اجتماعی فلاح کا نظریہ
رسول اللہ ﷺ نے صرف فرد کی اصلاح پر زور نہیں دیا بلکہ ایک صالح اور منظم معاشرے کی تشکیل پر بھی توجہ دی۔ مدینہ کی ریاست میں آپ ﷺ نے مواخات، عدل، تعلیم اور مساوات کی بنیادوں پر ایک مثالی معاشرہ قائم کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے ہر ایک نگران ہے، اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (بخاری) یہ اجتماعی ذمہ داری کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔
کتاب “خلافت و ملوکیت” میں مولانا مودودی لکھتے ہیں: “اسلامی معاشرہ انفرادی دینداری کے ساتھ اجتماعی فلاح پر قائم ہوتا ہے۔” آج اگر ہم نبی ﷺ کے اس اجتماعی وژن کو اپنائیں تو غربت، جہالت اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ سیرت طیبہ صرف ایک فرد کی نہیں، ایک امت کی رہنمائی ہے۔
21- امن و رواداری کا پیغام
رسول اکرم ﷺ کی زندگی امن، محبت اور رواداری کی ایک درخشاں مثال ہے۔ مکہ کے ظلم و ستم کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے کے بجائے صبر، تحمل اور معافی کو ترجیح دی۔ فتح مکہ کے موقع پر جب طاقت آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھی، آپ ﷺ نے ان لوگوں کو عام معافی دی جنہوں نے آپ پر اور آپ کے صحابہؓ پر ظلم کیا تھا۔ یہ عظیم ظرفی آج کے معاشرے میں باہمی نفرت اور تعصب کو ختم کرنے کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔
اسلامی اسکالر ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب “امن و انسانیت” میں لکھتے ہیں کہ “نبی اکرم ﷺ نے نفرت کے بجائے محبت اور تشدد کے بجائے امن کا پیغام دیا۔” اس تعلیم کو اپنانا آج کے معاشرے کی اشد ضرورت ہے جہاں فرقہ واریت، نسلی امتیاز اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر ہم نبی ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کو اپنالیں تو ایک پرامن معاشرہ ممکن ہو سکتا ہے۔
22- خواتین کے حقوق کی حفاظت
نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں خواتین کے حقوق کی بنیاد رکھی جہاں عورت کو وراثت، رائے اور عزت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عورت کو عزت دی بلکہ ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کے روپ میں اس کے مقام و مرتبہ کو واضح کیا۔ “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے” (ترمذی) جیسی احادیث آپ ﷺ کی تعلیمات کی عکاس ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں عورت کو اکثر استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نبی ﷺ کی تعلیمات مشعل راہ ہیں۔ اسلامی اسکالر ڈاکٹر فرحت ہاشمی اپنی کتاب “عورت کا مقام اسلام میں” میں فرماتی ہیں کہ “اسلام نے عورت کو جو عزت دی ہے، وہ کسی اور نظام میں ممکن نہیں۔” اگر ہم نبی ﷺ کے اسوہ کو اپنائیں تو صنفی مساوات اور عزت کا تصور عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
23- علم کی اہمیت
نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا اولین پیغام “اقْرَأْ” یعنی “پڑھ” تھا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ علم کو دین اسلام میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آپ ﷺ نے علم کے حصول کو ہر مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ غزوہ بدر کے قیدیوں کو رہائی دینے کے لیے شرط رکھی گئی کہ وہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں گے—یہ تعلیمات علم کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
آج کا مسلمان اگر ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے علم کو اولیت دینا ہوگی، جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
علم صرف دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ روحانی بلندی کا زینہ بھی ہے۔ “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (ابن ماجہ) کا عملی نفاذ ہی امت مسلمہ کے لیے نجات کا راستہ ہے۔
24- عبادت میں خشوع و خضوع
نبی کریم ﷺ کی عبادات میں عاجزی، انکساری اور مکمل اخلاص نمایاں تھا۔ آپ ﷺ نماز میں اس قدر محو ہو جاتے کہ آنکھیں اشکبار ہو جاتیں، اور سجدوں میں دیر تک اللہ سے راز و نیاز کرتے۔ عبادت صرف رسم نہیں بلکہ قلبی لگاؤ اور روحانی وابستگی کا اظہار تھی۔ آپ ﷺ نے سکھایا کہ عبادت کا مقصد صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی بھی ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں، “نماز اگر روح کی بیداری نہ پیدا کرے تو وہ صرف جسمانی مشق رہ جاتی ہے۔” ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم عبادات میں وہی اخلاص پیدا کریں جیسا کہ نبی ﷺ نے سکھایا تاکہ دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا ہو اور ہمارے اعمال قبول ہوں۔
25- عدل و انصاف کا قیام
رسول اکرم ﷺ نے عدل و انصاف کو اپنی حکومت کی بنیاد بنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم سے پہلے قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں پر قانون نافذ کرتی تھیں اور طاقتوروں کو چھوڑ دیتی تھیں۔” (بخاری) نبی ﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی قانون کی عملداری کا اعلان کیا، جو آج کے حکومتی نظام کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب “سیرت النبی ﷺ” میں لکھتے ہیں کہ “آپ ﷺ کا عدل و انصاف دنیا کی تاریخ میں بے نظیر ہے۔” اگر مسلم معاشرے آج بھی اسی اصول پر عمل کریں تو بدعنوانی، ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہے۔ قانون کی بالادستی ہی وہ ستون ہے جس پر ایک صالح معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
Conclusion
حضرت محمد ﷺ کی زندگی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ اور ہمہ گیر نمونہ حیات ہے جو ہر دور اور ہر شعبہ زندگی کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح، روحانیت کی بلندی، اور معاشرتی انصاف کا مکمل خاکہ موجود ہے۔ اگر ہم آپ ﷺ کی سیرت کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کریں، تو انفرادی طور پر بھی کامیابی حاصل ہوگی اور اجتماعی طور پر بھی امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔
آج کے چیلنجز کا مقابلہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جیسا کہ امام مالکؒ نے فرمایا: “اس امت کی اصلاح اسی طریقے سے ہو سکتی ہے جس سے پہلی امت کی اصلاح ہوئی۔” اور وہ طریقہ ہے نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل۔ یہی نجات کا راستہ ہے، یہی فلاح کا زینہ ہے، اور یہی ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔
1. القرآن المجید
سورۃ الاحزاب، آیت 21:
“لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”
“بیشک رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنانا ہر مومن کے لیے ضروری ہے۔
2. صحیح بخاری
حدیث نمبر 6101
نبی ﷺ نے فرمایا:
“من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله”
“جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔”
یہ حدیث نبویؐ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ آپ ﷺ کی پیروی دراصل اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
3. الشفاء بتعريف حقوق المصطفى – امام قاضی عیاض رحمہ اللہ
اس کتاب میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت، محبت اور تعظیم کے فضائل اور واجبات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ امام قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“فإن من حقه ﷺ علينا اتباع سنته، والتأدب بآدابه، والتخلق بأخلاقه.”
“آپ ﷺ کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کی سنت کی پیروی کریں، آپ کے ادب کو اپنائیں، اور آپ کے اخلاق کو اختیار کریں۔”
4. زاد المعاد – امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ
یہ کتاب نبی ﷺ کی سیرت، عبادات، معاملات، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو انتہائی جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
امام ابن قیم لکھتے ہیں:
“من أراد السعادة الحقيقية فليلزم سيرة النبي ﷺ؛ ففيها النور والبركة والنجاة.”
5. سیرت النبی ﷺ – علامہ شبلی نعمانی
اردو زبان میں لکھی گئی یہ معروف کتاب نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو سائنسی، تاریخی اور عقلی انداز میں بیان کرتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ:
“جس شخص نے رسول اکرم ﷺ کی سیرت سے روگردانی کی، وہ راہ نجات سے محروم ہو گیا۔”
حضرت محمد ﷺ کی سیرت نہ صرف عقیدے کا حصہ ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن، احادیث، اور سیرت کی کتب اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ آپ ﷺ کی پیروی ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
“سنت نبوی کو مضبوطی سے تھام لو، کہ یہی کشتی نوح ہے، جو اس پر سوار ہوا، نجات پا گیا۔”
حوالہ جاتی کتب (Bibliography):
- القرآن المجید
- ترجمہ و تفسیر: مختلف علماء
- سورۃ الاحزاب، آیت 21 — رسول اللہ ﷺ کو “اسوۂ حسنہ” قرار دیا گیا ہے۔
- صحیح البخاری
- امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ
- حدیث نمبر 6101: “من أطاعني فقد أطاع الله…”
- زاد المعاد فی ہدی خیر العباد
- مؤلف: امام ابن قیم الجوزیہ
- موضوع: نبی اکرم ﷺ کی سیرت، عبادات، اور طریقِ زندگی
- الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
- مؤلف: امام قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ
- موضوع: رسول اللہ ﷺ کے حقوق اور ان کی پیروی کی اہمیت
- سیرت النبی ﷺ
- مؤلف: علامہ شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی
- زبان: اردو
- خصوصیت: علمی اور تاریخی انداز میں سیرت نبویؐ کا احاطہ
- الرحیق المختوم
- مؤلف: شیخ صفی الرحمن مبارکپوری
- اعزاز: سیرت پر عالمی سیرت کانفرنس میں اول انعام یافتہ
- موضوع: نبی کریم ﷺ کی مکمل سوانح عمری
- محمد: His Life Based on the Earliest Sources
- مؤلف: Martin Lings
- زبان: انگریزی
- خصوصیت: مستند انگریزی سیرت نبوی ﷺ، تحقیقی اسلوب میں
- فی ظلال السیرۃ النبویہ
- مؤلف: سید قطب شہید رحمہ اللہ
- موضوع: سیرتِ نبوی کے انقلابی اور فکری پہلو
- السیرۃ النبویۃ
- مؤلف: امام ابن ہشام
- ماخذ: ابتدائی ترین اور بنیادی سیرت کی کتب میں سے ایک
- محاسن الاسلام و شمائل النبی ﷺ
- مؤلف: امام ترمذی، امام بیہقی، دیگر محدثین
- موضوع: اخلاقِ نبوی، عادات، اور سادگی کی مثالیں
🔍 مزید مطالعے کے لیے تجویز کردہ کتب:
- نبی اکرم ﷺ کی سیاسی حکمت عملی — ڈاکٹر حمید اللہ
- نقوشِ رسول ﷺ — ڈاکٹر محمد طاہر القادری
- سیرت رسول عربی ﷺ — مولانا صفی اللہ
- اسوۂ حسنہ — مولانا محمد یوسف کاندھلوی
علامہ شبلی نعمانی کی شہرۂ آفاق کتاب “سیرت النبی ﷺ” (جو بعد ازاں ان کے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی نے مکمل کی) اردو ادب اور سیرت نگاری کی نمایاں ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر علمی، تحقیقی، اور عقلی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
ذیل میں آپ کو “سیرت النبی ﷺ” سے چند اہم اقتباسات اور حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں، جو اس موضوع “حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے، اس پر عمل کرنا ہی نجات ہے” کے ضمن میں مفید ہیں:
📘 سیرت النبی ﷺ سے اقتباسات اور حوالہ جات
1. اسوۂ حسنہ کی جامعیت پر
“رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ خواہ وہ خانگی زندگی ہو یا اجتماعی، جنگ ہو یا امن، عبادت ہو یا تجارت، ہر گوشے میں آپ کی ذات گرامی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 1، صفحہ 10)
2. عقلی دلائل سے پیروی نبویؐ کی اہمیت
“اگر دنیا میں کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ اخلاق، تدبر، شجاعت، صبر، رحم دلی، دیانت اور حکمت میں کامل نمونہ تلاش کرے تو وہ بے جھجک محمد ﷺ کی ذات پر نگاہ ڈالے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 1، صفحہ 34)
3. اخلاق نبوی اور نجات کا تعلق
“آپ ﷺ کا اخلاق صرف عبادات اور روحانیات تک محدود نہ تھا بلکہ آپ کے اخلاقی اصول دنیاوی معاملات میں بھی راہِ نجات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت پر عمل ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 2، صفحہ 112)
4. عملی نمونہ کی ضرورت
“اسلام میں نجات کا مدار صرف عقیدہ نہیں بلکہ عمل ہے، اور عمل کی بہترین صورت رسول اللہ ﷺ کی سیرت کی پیروی ہے، جسے خداوند تعالیٰ نے ‘اسوۂ حسنہ’ قرار دیا ہے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 3، صفحہ 27)
5. نبوت اور عملی زندگی
“نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ محض مذہبی تعلیمات کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ ایک مکمل عملی نظامِ حیات ہے۔ اس میں ہر انسان کے لیے رہنمائی موجود ہے، بشرطیکہ وہ اخلاص کے ساتھ سیکھنے اور عمل کرنے کا ارادہ کرے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 4، صفحہ 66)
6. خاتمہ نبوت اور اسوہ کی دائمی حیثیت
“نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس لیے بھی کامل نمونہ ہے کہ آپ آخری نبی ہیں، اور آپ کی زندگی کو محفوظ کر کے قیامت تک کے انسانوں کے لیے معیارِ ہدایت بنایا گیا ہے۔”
📖 (سیرت النبی ﷺ، جلد 1، صفحہ 6)
📚 نوٹ برائے حوالہ جات:
یہ اقتباسات “سیرت النبی ﷺ” کے مختلف اردو ایڈیشنز میں صفحہ نمبرز کے اعتبار سے تھوڑا آگے پیچھے ہو سکتے ہیں، اس لیے حوالہ دیتے وقت جلد اور موضوع کا حوالہ دینا زیادہ مفید ہوتا ہے۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب “سیرتِ سرورِ عالم ﷺ” ایک مختصر مگر جامع سوانحی کتاب ہے جو انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کے بنیادی پیغام اور انسانیت کے لیے اس کے عالمگیر نمونۂ عمل پر روشنی ڈالنے کے لیے لکھی۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں خاص طور پر سیرت کے اخلاقی، تمدنی، سیاسی اور انقلابی پہلوؤں کو واضح کیا ہے۔
ذیل میں “حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے، اس پر عمل کرنا ہی نجات ہے” کے موضوع سے متعلق “سیرتِ سرورِ عالم ﷺ” سے منتخب اقتباسات اور حوالہ جات دیے جا رہے ہیں:
📘 سیرتِ سرورِ عالم ﷺ سے اقتباسات اور حوالہ جات
1. اسوۂ حسنہ کی آفاقیت
“نبی ﷺ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی عملی مثال قائم کر کے دکھا دی کہ انسان ایک مکمل اور متوازن شخصیت کیسے بن سکتا ہے۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 18)
2. رسالت کا مقصد اور نمونہ عمل
“نبی ﷺ کو اس لیے مبعوث کیا گیا کہ وہ انسانوں کو نہ صرف تعلیم دیں بلکہ ان کے سامنے وہ عملی مثال بھی رکھیں جس پر چل کر انسان نجات پا سکتا ہے۔ یہی اسوۂ حسنہ ہے۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 27)
3. نجات کا تعلق عمل سے
“نبی ﷺ کی زندگی محض عبادت یا روحانیت کا نمونہ نہیں بلکہ مکمل انسان کی زندگی کا مثالی خاکہ ہے۔ جو شخص بھی اس روشنی میں اپنی زندگی سنوارے، وہی نجات یافتہ ہے۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 32)
4. تاریخ کی نظروں میں عظمت
“تاریخ میں کوئی دوسری شخصیت ایسی نہیں گزری جس کی زندگی اس درجہ کامل، ہمہ گیر اور عملی نمونہ ہو جیسا کہ محمد ﷺ کی زندگی ہے۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 9)
5. امت کے لیے رہنمائی
“قرآن نے نبی ﷺ کو اسوۂ حسنہ کہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کو آپ ﷺ کی سیرت کو محض قصہ نہیں بلکہ مستقل دستورِ عمل بنانا ہے۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 13)
6. مکمل نظامِ حیات
“اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ نبی ﷺ کی سیرت سے ہمیں ہر معاملے میں رہنمائی ملتی ہے — خواہ وہ حکومت ہو یا عدل، تجارت ہو یا تعلیم۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 45)
7. دین اور دنیا کا امتزاج
“نبی ﷺ کی زندگی ایک مثالی توازن کا نمونہ ہے — وہ دنیا کو چھوڑ کر زہد کے غار میں نہیں بیٹھے، بلکہ دنیا میں رہ کر دین کو غالب کیا۔”
📖 (سیرتِ سرورِ عالم ﷺ، صفحہ 51)
ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنی کتب اور لیکچرز میں بھی نبی ﷺ کی زندگی کو نمونہ حیات قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی اہمیت پر خاص زور دیا ہے۔ ان کی تحریریں اور تقاریر اسلامی تعلیمات کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہیں اور عملی زندگی میں نبی ﷺ کی سیرت کے اطلاق پر روشنی ڈالتی ہیں۔
ذیل میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی چند اہم کتابوں سے آپ کے موضوع “حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ حیات ہے، اس پر عمل کرنا ہی نجات ہے” کے حوالے سے منتخب اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں:
📘 ڈاکٹر اسرار احمد کی کتب سے اقتباسات اور حوالہ جات
1. نمونہ حیات کی جامعیت
“نبی کریم ﷺ کی زندگی کوئی معمولی داستان نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی روشنی میں زندگی گزارنا ہی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “دینی احکام اور ان کی حقیقت”، صفحہ 45)
2. عملی زندگی میں سیرت کی اہمیت
“سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات صرف نظریاتی نہیں، بلکہ عملی زندگی کا ہر پہلو شامل ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کیسے دین کی روح کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کیا جائے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “سیرت النبی ﷺ”، صفحہ 102)
3. اقبال کے فلسفہ سے ہم آہنگی
“جس طرح علامہ اقبال نے نبی ﷺ کو انسان کامل کہا ہے، ویسے ہی سیرتِ نبوی پر عمل پیرا ہو کر ہی انسان اپنی اصل ہدایت تک پہنچ سکتا ہے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “اقبال کی فکر اور اسلامی نظریہ”، صفحہ 88)
4. روحانی اور سماجی دونوں پہلوؤں پر روشنی
“نبی ﷺ کی زندگی روحانی کمالات اور سماجی اصلاحات دونوں کا مکمل امتزاج ہے۔ ان کی زندگی سے سبق حاصل کرنا ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “اسلامی معاشرہ اور اس کی تشکیل”، صفحہ 67)
5. نجات کی کنجی: اتباع رسول ﷺ
“نجات کا راستہ صرف ایمان سے نہیں گزرتا، بلکہ اس کے ساتھ نبی ﷺ کی سنت کو اپنانا ضروری ہے۔ یہی سنت ہماری زندگیوں کو روشنی اور سکون دیتی ہے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “تبلیغ کا فلسفہ”، صفحہ 134)
6. سیرت کی روشنی میں اصلاح ذات
“جب ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں نبی ﷺ کی سیرت کو اپناتے ہیں، تو ذاتی اور اجتماعی اصلاح کا عمل شروع ہوتا ہے جو معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہے۔”
(ڈاکٹر اسرار احمد، “اصلاح ذات”، صفحہ 54)

By Amjad Izhar
Contact: amjad.izhar@gmail.com
https://amjadizhar.blog
Affiliate Disclosure: This blog may contain affiliate links, which means I may earn a small commission if you click on the link and make a purchase. This comes at no additional cost to you. I only recommend products or services that I believe will add value to my readers. Your support helps keep this blog running and allows me to continue providing you with quality content. Thank you for your support!
